اگلا جنم
۔۔۔۔۔۔
روایتوں کی قید میں
آنکھ کھلی
نہ دل اپنے بس میں تھا
نہ جسم پہ کوئی دسترس
خواب
تعبیروں کے تعاقب میں
جنگل جنگل
اُلجھے رہے
خواہشیں
موسموں کی طرح
بیت گئیں
اور زندگی
اگلے جنم پر
تکیہ کیے گزر گئی
Related posts
-
صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا
اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں... -
نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)
یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر... -
شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم
نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں...
