اگلا جنم
۔۔۔۔۔۔
روایتوں کی قید میں
آنکھ کھلی
نہ دل اپنے بس میں تھا
نہ جسم پہ کوئی دسترس
خواب
تعبیروں کے تعاقب میں
جنگل جنگل
اُلجھے رہے
خواہشیں
موسموں کی طرح
بیت گئیں
اور زندگی
اگلے جنم پر
تکیہ کیے گزر گئی
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی... -
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے... -
حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار...
